Friday , 19 January 2018
Latest News
ہم عوام سے جڑے لوگ ہیں ،  اسلئے ہم پروٹوکول کے محتاج نہیں، یہی وجہ کہ ہم عوامی مسائل کو عوام میں جاکر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں .یوسف مستی خان.   اور انکے لئے آواز اٹھاتے ہیں. مگر سندھی الیکٹرانک  میڈیا کا اس سلسلے میں کردار منفی  رہا ہے جبکہ سندھی پرنٹ  میڈیا کے کردار کو سراہتے ہیں اور پرنٹ میڈیا کے صحافی  دوست نہایت  پازیٹیو کردار نبھا رئے ہیں.

ہم عوام سے جڑے لوگ ہیں ، اسلئے ہم پروٹوکول کے محتاج نہیں، یہی وجہ کہ ہم عوامی مسائل کو عوام میں جاکر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں .یوسف مستی خان. اور انکے لئے آواز اٹھاتے ہیں. مگر سندھی الیکٹرانک میڈیا کا اس سلسلے میں کردار منفی رہا ہے جبکہ سندھی پرنٹ میڈیا کے کردار کو سراہتے ہیں اور پرنٹ میڈیا کے صحافی دوست نہایت پازیٹیو کردار نبھا رئے ہیں.

 بدقسمت ملیر ـ
آدرش
پہلی قسط
جدید دنیا میں زبانوں رسم رواجوں کو بچانے کے لیئے کوششیں کی جارہی ہیں اور جو زبانیں آج دنیا میں اپنا وجود کھو چکی ہیں ان کے بارے میں تحقیق کی جارہی ہے ـ آثار قدیمہ کے لوگ اس جہدوجہد میں ہیں کہ ماضی کے جتنی بھی تھذیبوں کے آثار اس دنیا میں موجود ہیں ان کی حفاظت کی جاہے ـ یہ جدید دنیا اس مٹیریل اور مشینی دنیا کے نقصانات سے زمین کو بچانے کے لیئے کوششوں میں مصروف ہے زلزلے کیوں آتے ہیں سونامی کے تباہی سے بچانے کے لیئے کیا کیا جائے موسمی تبدیلیاں کیوں آتی ہیں ایسا کیا کیا جائے کہ یہ دنیا ماحولی آلودگی سے پاک ہو مگر اس دنیا میں ایک ملک ایسا بھی ہے جو ان سب باتوں سے لاتعلق اپنے رمز میں چلایا جا رہا ہے کہنے کو ذرعی ملک ہے مگر یہاں کبھی ذرعی اصلاحات کے بارے میں سوچا ہی نہیں گیا اس کو چھوڑیئے یہاں انسامی بہبود کے بارے میں آج ستر برس کے بعد بھی کوئی پلانگ نہیں وہ ملک ہے اسلامی جہموریہ پاکستان جہاں نہ جہمور ہے نہ اسلام بس مظلوم اور ظالم بستے ہیں ـ
میں پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالخلافہ کراچی کے ایک چھوٹی سی بستی میں رہتا ہوں یہ وہ علائقہ ہے جسے کبھی کراچی کا گرین بیلٹ کہتے تھے کراچی کا ذراعت کا مرکز ملیر ـ جو آج بنجر زدہ بڑے بڑے بلڈرز کے رحم کرم پر ہے جہاں آج پھاڑ کاٹے جا رہے ہیں ندیاں برباد کی جا رہی ہیں چراگاہوں پر بلڈوزر چلا کر درخت ختم کیئے جا رہے ہیں ان کی وجہ سے ذراعت ختم ہوتی جا رہی ہے جس کے اثرات ابھی سے ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں کراچی سے برساتوں نے منہ موڑ لیا ہے موسمی تبدیلوں کی وجہ سے گرمی بڑھ گئی ہے ریاستی لا پرواہی ریاستی جبر سیاسی رہنماؤں کی مفاد پرستی کی وجہ سے ملیر ایک ایسے نہج پہ پہنچ چکا ہے جہاں ذراعت کے خاتمے کے ساتھ یہاں صدیوں سے آباد لوگوں کے رسم رواج اور زبان بھی شدید خطرات سے دوچار ہیں دو عالی شان سرمایہ دارانہ کالونیاں ” بحریہ ٹاؤن اور DHA ” کے بننے اور امیر سرمایہ دار جاگیردار بیروکریٹ جرنیل اور بڑے بڑے ملکی اور غیر ملکی سیٹھوں کی آباد کاری سے شاید کراچی کا سب سے بڑا سلم ڈاگ علائقہ بھی یہاں بن جائے گا جہاں صدیوں سے آباد لوگ بھوک افلاس کے ساتھ موجود ہوں گے ـ یہ دونوں رہائشی منصوبے بحریہ اور DHA کے مکمل ہونے اور یہاں آباد ہونے سے ملیر کا نام تاریخ کے اوراق میں منتقل ہو جائے گا اور یہاں کے لوگ کچھی بستیوں میں جن کے لیئے نہ معیاری تعلیم ہوگی نہ معقول ذریہ روزگار اب آپ پڑھنے والے خود سوچ سکتے ہیں کہ اس کا انجام کیا ہوگا ـ
بدقسمت ملیر جسے آج اس طرح نوچا جا رہا ہے بدقسمت ملیر جسے آج بلڈروں کے حوالے کر کے تباہ کیا جا رہا ہے ملیر پہلے ایسے تو نہ تھا ـ شاہ لطیف کا راہ گذر گوہر کی آرام گاہ سسی کے پیروں کے نشاں للو کی چراگاہ چوکنڈی کے قبرستان جس کی پہچان چاکر شھید اور عبداللّٰہ مراد شھید جیسے کرداروں کا عشق ملیر ـ اور ان گنت آثار قدیمہ کے نشاں اپنے سینے میں چھپائے بدقسمت ملیر آج اپنوں اور غیروں کے ستم کا نشانہ بنا ہوا ہے ـ
” جاری “

Print Friendly, PDF & Email
Too many requestsBolantimes.com