Monday , 26 June 2017
Latest News
لا پتہ افراد کیس، خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کے شواہد پر سپریم کورٹ برہم

لا پتہ افراد کیس، خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کے شواہد پر سپریم کورٹ برہم

اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ آف پاکستان میں ملک بھر سے لاپتہ ہونے والے افراد کے مقدمات کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے لاپتہ افراد کے زیادہ تر مقدمات میں حساس اداروں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹارنی جنرل منیر اے ملک یکم جولائی کو عدالت کو بتائیں کہ اگر حساس اداروں نے اس طرح سے لوگ اٹھانے ہیں اور کوئی جواب نہیں دینا ہے تو ہمیں بتایا جائے کہ ہم لاپتہ افراد کے مقدمات کو بند کرکے ان کی فائلوں کو آگ لگادیتے ہیں سب ادارے آئین و قانون کے پابند ہیں کسی کو قانون کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے کسی کو بھی لوگوں کی تکلیف کا احساس نہیں ہے کسی لاپتہ شخص کی ماں مر گئی کسی کا باپ اس دنیا سے رخصت ہوگیا کئی چلنے پھرنے سے معذرو ہیں وہ کہاں جائیں کیا یہ پاکستان کے شہری نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا سلوک روا کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روز دیئے ہیں اس دوران ظہیر مظفر ، نوید الرحمان سمیت پانچ لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کی گئی اور پولیس رپورٹس پیش کی گئیں وحید خٹک نے بتایا کہ انسپکٹر عامر پیش نہیں ہوئے جسٹس جواد نے کہا کہ پولیس کی گرفت سے کوئی باہر نہیں ہوسکتا وہ کمیشن کے روبرو پیش ہونے چاہیے تھے وحید خٹک نے کہا کہ پھرمحمود عباس نے بتایا ہے کہ انسپکٹر عامر ان کے ملازم ہیں جسٹس جواد نے کہا کہ حساس اداروں اورپولیس کا کام لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرناہے میجرمحمود عباس کہتے ہیں کہ عامر ان کا ملازم ہے وہ پیش نہیں کرینگے پولیس صوبائی صوبائی معاملہ ہے ایم آئی کا انسپکٹر ہے صوبے اپنی پولیس کی پشت پر کھڑے ہوں گے اس کیس کو یکم جولائی کو رکھنے لگے ہیں اس روز اٹارنی جنرل بھی موجود ہوں گے جو لوگ تحقیقات میں پولیس کا ساتھ نہیں دے رہے ان کیخلاف مقدمات درج کریں اصغر علی کا تبادلہ کیوں کیا گیا ہے اس طرح تبادلے بھی نہیں ہونے چاہیں خاص طور پر لاپتہ افراد کے مقدمات ہیں ان کو ڈیل کرنے والے پولیس افسران کے تبادلے نہیں ہونے چاہیں ایسے معاملہ نہیں چلے گا اگلی سماعت نے تفیشی طارق محمود ٹرانسفر ہوجائینگے ہر ایشو کو حل کرنے کا صوبے اور پولیس کی ذمہ داری ہے علی زئی نے بتایا کہ اٹارنی جنرل آفس میں لاپتہ افراد سیل بنا دیا گیا ہے یکم تک فہرستیں بھی بن جائینگی مرز سلیم بیگ کے بھائی عبدالغفور نے بتایا کہ ان کو کمیشن کی سماعت کے بعد ایک حساس ادارے کا ملازم ملا اور مجھے عامر خان کو بلانے سے روکتا رہا لاپتہ سلیم بیگ کی موبائل سم انسپکٹر عامر استعمال کررہا ہے اس حوالے سے پولیس نے موبائل فون کالوں کا ریکارڈ بھی پیش کر دیا عدالت نے کہا کہ اس کو یکم کو دیکھیں گے اس طرح کے تمام مقدمات حل ہوجائینگے جسٹس جواد نے کہا کہ جب ٹھوس شواہد موجودہیں سلیم بیگ کیوں نہیں مل رہے ہیں جو نہیں مانے گا اس کو منوائیں گے کہ وہ یہ غلط کام کررہے ہیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شاہد کریم کو بھی یکم جولائی کو بلائیں 25 جون 2013 کو کمیشن نے بھی اس حوالے سے سماعت کی تھی پولیس نے بتایا کہ انسپکٹر عامر کی کالوں کا جو علاقے سامنے آیا اہے وہ راولپنڈی کے فوجی افرسان والا علاقہ بنتا ہے زیادہ تر جعلی موبائل سمیں استعمال کی جارہی ہیں اس پر جسٹس جواد نے کہا کہ ضرورت ہوئی تو اٹارنی جنرل سے کہیں گے کہ بلوچستان کی طرح یہاں بھی جعلی سموں کو بند کرایا جائے ۔ ایک سم جاوید شاہ جیکب آباد سندھ کے نام پرہے تاہم استعمال انسپکٹر عامر کررہے ہیں اٹارنی جنرل نے سلیم بیگ کے کیس کا بھی جائزہ لیا اور بنیادی انسانی حقوق کے نفاذ پر کام کریں اس دران لاپتہ شخص ظہیر مظفر کے مقدمے کے بھی سماعت ہوئی سی پی او ہارون پیش ہوئے اور بتایا کہ کرنل زاہد نے بتایا ہے کہ یہ ایک جاسوس ہے جبکہ دوسرے شخص کو خورشید کو بھی بتایا تھا کہ وہ موجود ہیں جسٹس جواد نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ اس میں خاص پراگریس ہوئی ہے پولیس نے بتایا کہ یہ بارڈر ایریا ہے جس میں مختلف ایجنسیاں کام کررہی ہیں وزارت دفاع سے بھی رابطہ کیا ہے عدالت نے کہا کہ کاغذی کارروائی سے یہ معاملات حل نہیں ہوں گے ہم تفیشی نہیں ہیں لاجک کی بات سمجھتے ہیں ایف آئی آر درج کرنے سے قبل ہی لوگ اس کے گھر پہنچ گئے تھے پولیس نے بتایا کہ کرنل زاہد کہتا ہے کہ بارڈر ایریا میں ممکن ہے چلا گیا ہو لاپتہ کے والد مظفر نے بتایا کہ کرنل زاہد نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ جاسوس تھا ایف آئی آر درج ہے پہلے عباس پور افسر کیسے پہنچ گیا جسٹس جواد نے کہا کہ کسی کے پیچھے نہیں بھاگیں گے ہم اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو بلائیں گے اور اس مسئلے کے حل کیلئے کہیں گے جو غلط کام کرتے ہیں وہ پولیس کو جوابدہ ہیں جسٹس اعجاز نے کہا کہ پولیس قانون کے تحت وضع کردہ قواعد کے ساتھ کارروائی کیو ں نہیں کرتی بدقسمتی یہ ہے کہ آپ لوگ کام نہیں کرتے اور مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں جسٹس جواد نے کہا کہ کسی سے ڈرتے ہو اس پر ہارون نے کہا کہ وہ اللہ سے ڈرتے ہیں اس پر جسٹس جواد نے کہا کہ اگر آپ اللہ سے ڈرتے ہوتے تو اداروں سے کبھی نہ ڈرتے لگتا ہی ہے کہ آپ کسی سے ڈرتے ضرور ہیں ۔ بارڈر آر پار جانا مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے عباس پور کے ایک سابقہ کونسلر ظفر جی نے بتایا کہ باڑ کی وجہ سے بکری کا بچہ نہیں گزر سکتا انسانی بچہ کیسے وہاں سے نکل گیا اور آتا جاتا ہے لڑکا راولپنڈی سے غائب ہوا ہے وہاں سے بچہ عباس پور کیسے پہنچا اور بھارت کیسے پہنچ گیا لڑکے کے رشتہ دار بھی بھارت میں نہیں ہیں ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ ایک زمانہ یہاں سے گزرنا ناممکن تھا شادیاں بھی ہوئی ہیں بکری کا بچہ بھی نہیں گزر سکتا کرنل وجہ دکھائیں کہ وہ بچہ کیسے گزر گیا آپ کو خود ہی تحقیقات کرنا ہوگی کہ بچہ کیسے گزر گیا آپ آکر کہیں گے تو تب سچ مانیں گے وگرنہ کرنل جھوٹ بول رہا ہے ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ اگر حساس ادارے اسی طرح کام کررہے ہیں تو لاپتہ افراد کی بازیابی نہیں ہوسکتی ہمیں بتلا دیں اٹارنی جنرل سے کہیں گے کہ کیا ہم یہ مقدمات خدا حافظ کہتے ہوئے ٹھپ کردیں اور ان فائلوں کو آگ لگادیں یکم جولائی تک سماعت ملتوی کررہے ہیں پولیس نوجوان کو بازیاب کرا کر پیش کرے بعد ازاں محمد جمیل لاپتہ شخص کیس کی سماعت کی گئی ایس پی ہارون نے رپورٹ پیش کی ایم آئی کے میجر عباس نے بتایا تھا کہ کمیشن نے آرڈر جاری کئے تھے اور کہا تھا کہ کہ محمد جمیل کو پیش کیا جائے جس پر انہوں نے رپورٹ بھجوائی تھی اور بتایا کہ ہم نے اپنے مزے کو بھجوایا تھا نسیم جان کے بیٹے کی بازیابی ابھی نہیں ہوسکی ہے جسٹس جواد نے کہا کہ ہم پندرہ آرڈر پروڈکشن دے سکتے ہیں مگر ہوگا کیا کچھ بھی نہیں ہوگا یہ کیس بھی یکم جولائی کو ساڑھے گیارہ بجے لگائیں گے اور سماعت کی جائے گی اٹارنی جنرل منیر اے ملک ہمیں کوئی نہ کوئی جواب ضرور دینگے آرڈر میں عدالت نے کہا کہ محمد جمیل کے ا غواء میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے مبینہ طورپر افسران ملوث ہیں اگر یہ لڑکا نہ ملا تو پھر مذکورہ افسران کیخلاف مقدمات درج کرائے جائینگے نوید الرحمن لاپتہ شخص کے کیس کی سماعت بھی کی گئی نوید الرحمن کا بھائی عزیز الرحمن پیش ہوئے اس دوران پولیس نے رپورٹ جمع کرائی فوجی وردیوں میں سوار لوگوں نے دو گھروں میں چھاپے لگائے اور دو افراد نسیم اقبال اور نوید الرحمن ک واٹھا کر لے گئے دوبارہ یہ کیس رجسٹر ہوا صرف ایک ایف آئی آر موجود ہے عدالت نے افسوس کااظہار کیا کہ عدالتی میں ذمہ داروں کیخلاف مقدمہ درج کیوں نہیں کرایا گیا اگر کمیشن کے احکامات نہیں مانے جاتے تو پھر کمیشن کو ختم کردیا جائے جسٹس جواد نے کہا کہ کوئی ہے بس نہیں ہے اگر پولیس بے بسی کی بات کرتی ہے تو ایسا پولیس افسر اللہ سے نہیں ڈرتا کسی اور سے ڈر کر شرک کا مرتکب ہوتا ہے یکم جولائی کو اس کیس کی بھی سماعت کی جائے گی۔

Print Friendly
not foundBolantimes.com