Wednesday , 13 December 2017
Latest News
شب فرقت کے جاگنے والے پروفیسر نائلہ قادری بلوچ

شب فرقت کے جاگنے والے پروفیسر نائلہ قادری بلوچ

شب فرقت کے جاگنے والے

پروفیسر نائلہ قادری بلوچ
رات چھانے لگے تو دن بھر کے تھکے انسان کو نیند گھیرلیتی ھےانسان سوتا اور حیوان رات بھر بھونکتا ھے چلاتا وحشت کے جنگل سے رات بھر طرح طرح کی آوازیں آتی ھیں جیسے صبح ھونے لگتی ھے حیوان تھک کے سو جاتا ھے انسان جاگ کر زندگی بنانے نکل پڑتاھے۔ شال میں رھنے والے جانتے ھیں کہ ھر رات ٹھیک دو بجے گیدڑوں کے چیخنے کی آوازیں آتی تھیں پہلے ایک گروپ چلاتا تھا پھر دوسرا جواب دیتا تھا پھر کئی اطراف سے ایسی ھی آوازیں بلند ھوتی جو شہرکی فضا کو ناگوار کر دیتی، اتنے گیدڑ کہاں سے آگئے اور وہ گھڑی کیسے دیکھ کر ٹھیک دو بجے چلانا شروع کردیتے ھیں۔ یہ معاملہ اے ٹی ایف جیل میں قید ساتھیوں کی مدد سے کھلا پتہ چلا کہ پہلی چیخیں چھاؤنی کے مرکز سے شروع ھوتی ھیں پھر اس کا جواب چھاؤنی کے دیگر کونوں سے دیا جاتا ھے اور بقول بابوصبا دشتیاری ایک” طوفان بدتمیزی” پھیلا دیا جاتاھے، شہر کے اطراف میں رہنے والے چند معصوم اصلی گیدڑ بھی قبائلی یا گروہی فرض سمجھ کراس ھوھا میں شریک ھو جاتے۔ عام انسان جب رات کی نیند سو رھا ھوتا ھے توشہر ھو یا جنگل گیدڑوں کے حوالے نہیں کیا جاتا، کچھ انسان اسی لئے خاص ھوتے ھیں کہ وہ راتوں کو جاگ کرزمین کی تہہ اور ستاروں سے اوپر نظر رکھے ھوتے ھیں اور ان کے بیچ میں ھونے والے سارے معاملے سمجھ رھے ھوتے ھیں۔ کبھی بظاہرکچی مٹی کی چھوٹی سی دکان کی زرد روشنی میں پرانے جوتوں کی مرمت کرتے، کبھی قلم و کتاب کی سنگتی کرتے کبھی پہاڑ کی چوٹی پر سرمچاری فخر سے جاگتے ھیں وہ ستاروں کی ساری چالیں سمجھتے ھیں وہ ھوا کی بدلتی خوشبو سب سے پہلے جان لیتے ھیں۔ مادر وطن بلوچستان پر چھانے والی جنگ کی رات میں قابض کی چھاؤنی سے اٹھنے والی گیدڑوں کی مصنوعی ھو ھا سے وطن کی فضا کتنی بھی ناگوار ھو لیکن جاننے والے جانتے ھیں کہ یہ آوازیں کہاں سے آ رھی ھیں اور ان کا مقصد کیا ھے لیکن افسوس تب ھوتا ھے جب اچھے بھلے سیاسی سوچ رکھنے والے اس طوفان بدتمیزی کا حصہ بننے لگتے ھیں اپنے دانتوں سے خود کو کاٹنے جیسا کام ھے لیکن کئے جا رھے ھیں معصوم ھیں؟ نادان ھیں؟ ریکشنری ھیں؟ گروہی قبائلی مجبوری ھے یا؟؟؟؟؟؟
چین سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کے شئیرز بین الاقوامی انٹرنیٹ کمپنیوں میں کتنے ھیں؟ فون و کمپیوٹر میں نئی نئی ایپس ڈاؤن لوڈ کرتے ھوئے ھم کتنے غیر محفوظ ھو جاتے ھیں؟ یہ جانے بغیر” ایگری” کو کلک کرکے سارا ڈیٹا بشمول علاقہ جہاں موجود ھیں، فون کہاں کیا، کہاں سے آیا، ایمیلز کی تفصیل، فون یا کمپیوٹر بند ھونے پر بھی ارد گرد جو بات چیت ھو رھی ھے کہیں دور ریکارڈ کرنے کا اختیار، جب چاھیں کیمرہ استعمال کر کے فوٹویا ویڈیو بنانے کا اختیار دے دیا جاتا ھے۔ چین جاسوسی معلومات خصوصا بلوچ کے بارے میں پنجک و گجر کو دیتا ھے اس میں کوئی شک نہیں یعنی دشمن بہت کچھ جانتا ھےاندھیرے میں صرف بلوچ تیر چلا رھا ھے شائد یہی سوچ کربلوچ طلبا و طالبات کے ایک گروپ نے سوشل میڈیا پر چھائے طوفان بدتمیزی پر تحقیقی رپورٹ ترتیب دی ھے جس میں پچھلے تین سال میں سوشل میڈیا پر بلوچ رجحانات کا تجزیہ کیا گیا ھے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے بلوچ نام استعمال کرنے والوں کا ڈس پتہ اور ان کے دیگر بلوچ فیس بک پہلوانوں سے رابطوں کی حیرت انگیزمعلومات جمع کی ہیں صرف پنجک ھی نہیں دیگرکئی ممالک کے گیدڑ بھی تندور گرم دیکھ کر روٹیاں لگا رھے ھیں۔ ایک ھی فون یا کمپیوٹر سے مختلف آئی ڈی کے ذریعے ڈاکٹر اللہ نظر، سنگت حیر بیار مری اور نواب براھمداغ بگٹی کو برا بھلا کہا گیا ھے، سوال بھی خود اور جواب بھی خود دیا گیا ھے۔ یہ گروپ رپورٹ کو چند خاص تنظیموں کے سربراھوں تک محدود رکھے گا، مزید گہرائی تک جائے گا یا منظر عام پر لائے گا یہ ان پر منحصر ھے لیکن بھلا ھو بی این ایم کے نویں کونسل سیشن کا کہ بات دھنبورہ، اونٹ کی سیر، باھوں میں لڑکی، کروڑوں کا غبن، اپنے ھی ساتھیوں کا قتل، ڈیل، ڈرگ جیسے الزامات کے خالی کارتوسوں کی ناکامی کے بعد اب سوشلزم و ملٹی نیشنل کارپوریٹس تک تو آئی۔ جوماؤ زے تنگ کے سنہرے اقوال چھاپ چھاپ کر تھکتے نہیں تھے اب سوشلزم سے چڑنے لگے ھیں کم سے کم ریفرنس تو بابا مری کا دیا جانے لگا چاھے سیاق وسباق سے کاٹ کرھی سہی، بابا مری سوشلزم چیرمین ماؤ جتنا نہ بھی جانتے ھوں لیکن بلوچ کے دکھ درد اور ان کا مداوا ماؤ سے زیادہ جانتے ھیں، وہ جمہوریت پر تنقید کرتے ھیں اور اس کے کئی ماڈلز کا ذکر کرتے ھیں لیکن ڈکٹیٹرشپ کی حمایت نہیں کرتے چاھے سٹالن کی ھو یا کم ال سنگ کی۔ وہ بلوچ سے انتہائی محبت کرتے ھیں اور سنگین جرائم کرنے والے کے لئے بھی کہتے ھیں کہ “بلوچ کومارو مت ھدایت دو” وہ ذاتی اعتماد کی فضا میں اپنے بیٹے کا ذکر کرتے ھوئے کہہ رھے ھیں کہ وہ سوشلسٹ نہیں اور یہ بھی کہتے ھیں کہ میں یہ بات میڈیا میں نہیں کہتا کہ تقسیم زیادہ نہ ھو جائے اس اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اسے میڈیا میں لانے والا کیا بابا مری کا فولوئر ھو سکتا ھے؟ آزادی کا ایک نکتہ ھے جس پر سب ایک ھیں آزادی کے بعد کیا نظام رائج ھو گا وہ کہتے رھےھیں کہ بلوچ قوم اس کا فیصلہ کرے گی کوئی فرد یا گروہ نہیں کر سکتا میں خود بھی نہیں۔ ان کی جدوجہد میں ان کے قریب ترین اگر کوئی رھا ھے اور سب سے زیادہ رھا ھے وہ سنگت حیر بیار ھیں یہ دوست دشمن سب جانتے ھیں اسی لئے آج دشمن کی ساری توپوں کا رخ انہی کی طرف ھے اگر وہ سوشلسٹ نہیں تو کیا دنیا میں جینا صرف سوشلسٹوں کا حق ھے؟ حمل جئیند سے نواب اکبر بگٹی تک کوئی بھی سوشلسٹ نہیں تھا۔ اسی طرح بی این ایم کا پروگرام اگر سوشلزم ھے تو کیا انہیں جینے کا حق نہیں؟ داعش و لشکر خراسان کے سامنے کون پہلی صف میں لڑ رھا ھے۔ چئیرمین خلیل نے کیا برا کیا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی لوٹ مار کی مخالفت کی؟ کون بلوچ کے خون سے رنگے خزانے ملٹی نیشنل کمپنیوں پر لٹانے کی حمایت کرسکتا ھے شائد کوئی بدحواسی میں بھی نہ کرے۔ دنیا بھر کے غیرتمند عوام اور انقلابی تنظیمیں سینہ تان کر ملٹی نیشنلز کے سامنےانسان کے حقوق کے دفاع کی جدوجہد کر رھی ھیں، ان کی سب سے بڑی اکثریت یورپ و امریکہ میں رھتی ھے، اگر دنیا بھر کی 50 فیصد جی ڈی پی اور پرچیزنگ پاور پیرٹی صرف 7 ممالک جی ایٹ میں سمٹی ھوئی ھے (روس کو نکال دیا گیا ھے) تو ڈبلیو ٹی او کی میٹنگ کے باھر سئٹل واشنگٹن میں ھزاروں مظاھرین گلوبلائزیشن کے خلاف نعرہ زن بھی ھوتے ھیں جن میں این جی اوز، سٹوڈنٹ اور مزدور تنظیمیں شامل ھیں ،ڈیڑھ سو کے قریب گرفتار کئے گئے تھے جنہیں نہ صرف رھا کر دیا گیا بلکہ سئیٹل سٹی گورنمنٹ کو انہیں ڈھائی لاکھ ڈالر بھی ادا کرنے پڑے۔ جی ایٹ اور جی ٹوئنٹی کی سالانہ میٹنگز کبھی احتجاجی مظاھروں کے بغیر انجام نہیں پاتی، “ایوری بڈی آن سٹریٹس” لندن میں جی ٹوئنٹی سمٹ کے خلاف مظاھرین نے کہا یہاں صرف جھوٹ بولا جاۓ گاھم کارپوریٹس ملٹی نیشنل کے جھوٹ سننے نہیں آۓ ھم جس دنیا میں جینا چاھتے ھیں وہ ھم خود بنائیں گے نا انصافی ختم کرنا ھے” عوامی تحریکیں ان کی منہ زوری کو کنٹرول کرتی ھیں نیولبرلزم کا تجربہ بھی ناکام کہلایا معاشی بحران سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ جڑا ھوا ھے ایک طرف سے پیوند لگاتے ھیں تو دوسری طرف سے پھٹ جاتا ھے۔ کہنے کا مقصد یہ کہ بلوچ قوم کو یہ پیغام دینے والے قطعا بے بنیاد ہیں کہ پنجک و گجر کی غلامی سے نکل کر ملٹی نیشنل کی غلامی میں جانا ھی آزادی کا راستہ ھے اور جو ملٹی نیشنل کی مخالفت کرتا ھے وہ آزادی کی بین الاقوامی حمایت کھو دے گا ایسا بالکل نہیں۔ لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ھے کہ نام نہاد سوشلسٹ کیمپ بلوچ آزادی کی حمایت کرے گا تو اس کے امکانات اس لئے نظر نہیں آتے کہ ان کے مفادات ایران و پاکستان کے ساتھ جڑے ھیں امریکہ مخالفت میں وہ اتنے آگے بڑھ گئے ھیں کہ قومی آزادی کی تحریکوں کی بے لوث سرپرستی و حمائت کی جو روائت کامریڈ لینن نے باکو کانفرنس میں رکھی جس میں بلوچ وفد میر یوسف عزیز مگسی کی قیادت میں شامل ھوا تھا، اس لازمی سوشلسٹ عنصر کو پیروں تلے روند کر بلوچ دشمن ممالک کی اندھی پشت پناھی کر رھے ھیں،ایٹمی ٹیکنالوجی دے رھے ھیں اور بلوچ سونے کے ذخائر و ساحل پر قبضہ جمانا چاھتے ھیں۔ پاکستانی سوشلسٹ اور ترقی پسند توھم ایٹمی دھماکے میں جلتے وقت آزما چکے ھیں جہاں بلوچ جلتا ھے وھاں پاکستانیوں کی ترقی پسندی سوشلزم انسانی حقوق سول سوسائٹی سب بے حس اندھی بہری ھو جاتی ھے۔ بلوچ آزادی کا چارٹر جو سب سے خوبصورت پیغام دیتا ھے وہ ھر انسان کی برابری، تمام معدنی وسائل قومی ملکیت میں، مذھب ریاست سے الگ، تعلیم صحت روزگار سب کا حق اب یہ سوشلزم سے کتنا دورھے؟ لیکن حکمت عملی ھے کہ بلوچ کے لئے اچھی خوشحال زندگی بھی، بات کرنے کی آزادی بھی، تمام بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون بھی لیکن کسی ازم کا لیبل بھی نہیں۔ اس کا ھر گز یہ مطلب نہیں کہ جو کسی ازم کی بات کربا ھے وہ غلط ھے دونوں ایک ھی بات دو طریقے سے کر رھے ھیں جمہوری طریقے سے کر رھے ھیں دونوں بلوچ کے لئے اندرونی و بیرونی حمائت کے مختلف ھنر آزما رھے ھیں، مختلف دروازے کھٹکھٹا رھے ھیں سب کی صلاحتیں پورے خلوص کے ساتھ تحریک آزادی کو منطقی انجام تک پہنچانے میں صرف ھو رھی ھیں سب کو قوم کے اعتماد اور ساتھ کی ضرورت ھے۔ بہادر بنگالیوں نے پنجک سے آزادی کی جنگ میں اتنی جانیں قربان نہیں کیں جتنی آزادی کے بعد بھارت نواز اور چین نواز ھوکر آپس میں ایک دوسرے کا قتل عام کر کے گنوائیں، تیس لاکھ بنگالی اس لئے مارے گئے کہ بنگلہ دیش بھارت کے زیر اثر ھو گا یا چین کے۔ ھمارے پاس ایسا خونی تجربہ کرنے کا حوصلہ بھی نہیں اور اتنی آبادی بھی نہیں۔تحریک آزادی سب سے عظیم درسگاہ ھے آج ھمیں سیکھنا ھے کہ ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ھوئے ساتھ چلا جائے، جنگ کی رات میں اپنے اندر کے حیوان کو کھلی چھٹی نہ دی جائے اور قابض کی چھاؤنی سے گیدڑوں کی ھوھا کے طوفان بدتمیزی کا حصہ نہ بنا جائے اور ان کا احترام کیا جاے جواس سیاہ رات کی تاریکی میں اپنے شہر جنگل کوہ دشت صحرا ساحل کی حفاظت کے لئے، بلوچ کی شناخت اور انسان کی عظمت کے لئے جاگ رھے ھیں

Print Friendly, PDF & Email
not foundBolantimes.com