Wednesday , 13 December 2017
Latest News
شاھ محمد شاھ کے آب بیتی پر مبنی کتاب “سفر آڑانگھی پند جو”کے مھورتی تقریب ہوئی،

شاھ محمد شاھ کے آب بیتی پر مبنی کتاب “سفر آڑانگھی پند جو”کے مھورتی تقریب ہوئی،

بحریا ٹاؤن،سندھ یونیورسٹی اور سندھ میں رھنے والے غیر قانونی برمی اور بنگالیوں کو شناختی کارڈ کے اجرا کی گونج آرٹس کونسل کراچی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:::::::آج آرٹس کونسل کراچی کے فوک اینڈ ھریٹیج کمیٹی کے جانب سے سندھ کے ماضی کے قوم پرست سیاست اور حال میں مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے دوست شاھ محمد شاھ کے آب بیتی پر مبنی کتاب “سفر آڑانگھی پند جو”کے مھورتی تقریب ہوئی،جس میں پہت سے ماضی کے سندھ کے قومی تحریک کے حوالے سے مشہور کرداروں کا درشن ہوا،،یہ کتاب ایک تاریخ ہے ،ماضی کے سندھ کے قومی تحریک کو سمجھنے میں کافی مدد ملیگی ،تقریب کے خاص مھمان وفاقی وزیر احسن اقبال تھے،اسٹیج پر احسن اقبال کے سوا وفاقی وزیر حاصل بزنجو،یوسف مستی خان،زاہدہ حنا،مسعود نورانی،جلال محمود شاھ،کرامت علی،مدد علی سندھی،قمر راجپر،اسماعیل وسان اور احمد شاھ موجود تھے،سوائے جلال محمود شاھ کے کسی نے بھی کتاب پر بات نہیں کی،تقاریر میں یوسف مستی خان نے باقی باتوں کے علاوہ ایک بات جو کہی اور وہ مخاطب آحسن اقبال اور حاصل بزنجو سے تھا، یوسف مستی خان نے ملک ریاض اور بحریا ٹاؤن کے قبضہ گیریت کا پول ان وفاقی وزار کے سامنے کھول دیا اور وہاں گوٹھوں کو مسمار کرنے لوگوں کو اپنے گھروں اور زمینوں سے بیدخل کرنے کی کھل کر بات کی،جواب میں حاصل بزنجو نے تو کچھ نہیں کہا لیکن آحسن اقبال نے کہا کہ یہ صوبائی حکومت کا معاملہ ہے،وفاقی وزیر داخلہ بھی ملک ریاض کے سامنے اتنا بے بس ہے تو پھر غریب اور لاچار لوگ کہاں جائیں؟۔۔شکریہ لالا یوسف جو آپ نے اتنے بڑھے مجمع میں اور سندھ کے دانشوروں اور وفاقی وزرا کے سامنے بحریا ٹاؤن اور ملک ریاض کے مظالم کی بات تو رکھی،یوسف کے تقریر کے دوران خال میں بہت سی آوازیں آئیں کے بحریا ٹاؤن بادشاھ سلامت کی اسکیم ہے،ان کا اشارہ آصف زرداری کے جانب تھا،دوسری تقریر مجھے قمرالزماں راجپر کی اچھی لگی کہ اس نے وفاقی وزرا سے مخاطب ہوکر کہا کہ سندھ کے خلاف ایک سازش ہو رھی ہے اور اسمبلی میں یہ بات زیر بحث لائی جا رھی ہے کہ سندھ میں غیر قانونی رھنے والے برمی اور بنگالیوں کو شناختی بنا کر دیا جائے ھم اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور وفاقی حکومت بھی اس سلسلے میں سندھ کے اس مطالبے پر دھیان دے ،جس پر پورے ھال نے تالیاں بجا کر حمایت کی،لیکن دونوں وفاقی وزرا نے اپنے اسپیچ میں اس پر بات نہیں کی،پروگرام کے اسٹیج سکریٹری ڈاکٹر ایوب شیخ تھے،انہوں نے آخر میں وزیر داخلہ کے سامنے یہ بات رکھی کہ”آج سندھ یونیورسٹی میں ٹیچرز کے جانب سے جنسی ھراسمینٹ پر یونیورسٹی کے طالبات نے ایک جلوس نکالا ہے،جن کے احتجاجی بینروں پر یہ لکھا تھا کہ we are unsafe ،ان کو تحفظ کی ضرورت ہے اور یہ بحیثیت وفاقی وزیر داخلہ آپ پر بھی ذمیداری بنتی ہے کہ کچھ کریں”۔جس کے جواب میں وزیر داخلہ نے اتنا کہ،”یہ صوبائی حکومت کا معاملہ ہے”،تھینکس واجہ یوسف،تھینکس ڈاکٹر ایوب شیخ اور تھینکس قمر راجپر سائیں۔۔۔گل حسن کلمتی

Print Friendly, PDF & Email
Too many requestsBolantimes.com