Friday , 19 January 2018
Latest News
ذاکـــــــر مجـــــــید کــــــــی گـــــرفـــــتاری،بــــــلوچــــستان میـــــــں ہـــــــڑتال وریفـــــــرنـــــسز، کــــــراچــــــی مـــــیں پـــــریـــــس کانفـــــرنــــس و مظـــــاہــــــرہ

ذاکـــــــر مجـــــــید کــــــــی گـــــرفـــــتاری،بــــــلوچــــستان میـــــــں ہـــــــڑتال وریفـــــــرنـــــسز، کــــــراچــــــی مـــــیں پـــــریـــــس کانفـــــرنــــس و مظـــــاہــــــرہ

ذاکـــــــر مجـــــــید کــــــــی گـــــرفـــــتاری،بــــــلوچــــستان میـــــــں ہـــــــڑتال وریفـــــــرنـــــسز، کــــــراچــــــی مـــــیں پـــــریـــــس کانفـــــرنــــس و مظـــــاہــــــرہ بــــی ایـــــس او آزاد کــی مــــــرکـــــزی کال پــــــر آجــــــذاکـــــر مجیــــــد بـــــلوچ کـــــی گــــــرفتاری کـــــــو چـــــــھ سال مکمـــــل ہــــونے اور ان کــــــی عـــــــــدم بازیابـــــــی کے خــــــلاف بــــــلوچــــــستان بھــــــر میـــــں شٹـــــرداؤنـــــو پــــہیہ جام ہــــــڑتال اور تمــــام زونـــــــوں میــــں ریفـــــرنســـز کا انعــــقاد کیــــا گــــیا۔
ہڑتال کی وجہ سے تمام کاروباری مراکز و دکانیں بندرہیں، سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بھی معمول سے کمرہی،ریفرنس کی کال پر نال، آواران، جھاؤ، بالگتر، کولواہ، پروم، تمپ، سمیت تمام زونوں میں زاکر مجید بلوچ اور لاپتہ سیاسی کارکنان کی قربانیوں بارے ریفرنسزمنعقد ہوئے۔ جن میں بی ایس او آزاد کارکنان سمیت بلوچ عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔جبکہ اس کے علاوہ کراچی پریس کلب کے سامنے زاکر مجید بلوچ کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ مظاہرے میں بڑی تعداد میں بلوچ خواتین و بچوں ، نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور سول سوسائٹی کے ارکان سمیت مختلف طبقہہائے فکر کے لوگوں نے شرکت کی، شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اْٹھا رکھے تھے، جنمیں لاپتہ سیاسی کارکنوں کی عدم بازیابی اور مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کے خلاف نعرے درج تھے۔ کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرے کے شرکاء نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے لاپتہ سیاسی کارکنوں کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر نہتے لوگوں کو اغواء کیا جا رہا ہے،آپریشن کے نام پر عام آبادیوں پر زمینی و فضائی بمباری روز کامعمول بن چکے ہیں۔چائنا کی سرمایہ کاریوں کے اعلان بعد اور ایکشنپلان کی منظوری کے بعد مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کیکاروائیوں میں تیزی لاتے ہوئے آپریشنوں کی آڑ میں اسیران کی لاشیں پھینکی جارہی ہیں۔اور پھر انہیں مضحکہ خیز انداز میں مذاحمت کار ظاہر کرنے کی کوشش کیجا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے روگرداں ہو کر خوف و لالچ کے ذریعے فورسزکی بیانات کو ہی حقیقت ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ حالانکہ کیچ،نوشکی، آواران، پنجگور و مختلف علاقوں سے حالیہ کچھ دنوں سے پھینکی گئی لاشوں سے اہلعلاقہ سمیت لاپتہ افراد کے لوحقین کی تنظیم بخوبی جانتی ہے کہ وہ عرصوں سے لاپتہ تھے، لیکن فورسز انہیں شہید کرکے مقابلوں میں مارے جانے والا مزاحمت کار ظاہر کرنے کی کوشش کررہی ہیں تاکہ رائے عامہ کی آنکھوں میں دھول جھونکا جا سکے۔ مظاہرے کے شرکاء میں بی ایس او آزاد کے کارکنان نے پمفلٹ بھیتقسیم کیے جن میں زاکر مجید بلوچ سمیت دیگر لاپتہ افراد کے حوالے معلومات درج تھیں۔ اس کے علاوہ بی ایس او آزاد کی طرف سے کراچی پریس کلب میں زاکر مجید بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کی عدم بازیابی اور بلوچستان بھر سے نہتے لوگوں کیاغواء و فورسز کی حراست میںان کی شہادت کے خلاف پریس کانفرنس کیا گیا۔ بی ایس او آزاد کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سے فورسز کے ہاتھوں ہزاروں افراد سالو ں سے لاپتہ کیے جا چکے ہیں، پچھلے چند سالوں کے دوران ہزاروں نوجوانو ں کی لاشیں مختلف علاقوں میں پھینکی جا چکی ہیں۔ جن میں سینکڑوں ناقابلِ شناخت لاشیں بھی شامل ہیں ، جس کی وجہ سے لاپتہ افراد کے لواحقین شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا پچھلے چھ سالوں سے تنظیم کے سابقہ سینئر وائس چیئرمین زا کر مجید بلوچ فورسز کی تحویل میں ہیں، طویل احتجاجوں، لانگ مارچ، ہڑتالوں، خود پاکستانی عدلیہکی احکامات اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نوٹس لینے کے باوجود بجائے اس کے کہ فورسز لاپتہ اسیران کو عدالتوں میں پیش کرے، وہ روزانہ کی بنیاد پر بغیر کسی مقدمات کے بلوچ فرزندان کو اغواء و شہید کررہے ہیں، دیہاتوں کو جلایا جا رہا ہے، چائنی سرمایہ کاریوں کےاعلانات کے بعد ہزاروں خاندانوں کو ان کے علاقوں سے زبردستی بیدخل کیا جا چکا ہے، اسکولوں پر فورسز کئی سالوں سے قابض ہے، جس کی وجہ سے نوجوانوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والی سرمایہ کاری بلوچ عوام کی مرضی کے برعکس ہو رہی ہے، سڑکوں کی تعمیر بلوچ عوام کی ترقی کے لئے نہیں بلکہ بلوچ عوام کو انکے علاقوں میں اقلیت میں بدلنے کے لئے ہو رہی ہیں،بلوچستان کی سیاسی و فوجی لحاظ سے اہم جغرافیہ کو سستے داموں چائنا و دیگر ممالک کے حوالے کرکے ان کی توسیع پسندانہ عزائم کا شکار بلوچ عوام کو بنایا جا رہا ہے، اسطرح کی سرمایہ کاریوں سے بلوچ قومی شناخت کو شدیدخطرات لاحق ہیں۔ بلوچ عوام پچھلے ہزاروں سالوں سے اپنی زمین پر رہ رہے ہیں، کسی بیرونی حملہ آور کے سامنے سر جھکانے کے بجائے بلوچ فرزندان نے ہمیشہ مزاحمت کو ترجیح دے کر اپنے وطن کی حفاظت کی ہے،پاکستان کی غیر قانونی قبضے اور بلوچستان کے ریاستی اداروں پر زبردستی قابض ہونے کے بعد سے بلوچعوام اپنے ریاست کی بحالی کی جدوجہد کررہے ہیں، جو کہان کا فطری حق ہے۔لیکن ریاستی فورسز جنگی قوانین و اخلاقیات کے برعکس بلوچ نوجوانوں کو بغیر کسی مقدماتکے اغواء کررہی ہے، جہاں سالو ں انہیں اپنے اذیت گاہوں میں بند رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،اور پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں مختلف علاقوں میں سڑکوں کے کناروں و ویرانوں میں پھینکی جا رہی ہیں۔گزشتہ سال کے18مارچ کو بی ایس او آزاد کے مرکزی چئیرمین کو فورسز نے کوئٹہ سے اغواء کیا۔ طویل احتجاجوں کے بعد چیئرمین زاہد بلوچ فورسز کی تحویل میں ہیں،ڈاکٹر دین محمد بلوچ، رمضان بلوچ، سمیع مینگل، غفور بلوچ سمیت ہزاروں سیاسی کارکنان سالوں سے فورسز کی تحویل میں ہیں۔ انسانی حقوق کے ادارے،و میڈیا اداروں کو چاہیے کہ وہ لاپتہ بلوچ سیاسی کارکنان کی عدم بازیابی، آبادیوں پر بمباری و خواتین کی اغواء و سینکڑوں ایسے سنجیدہ مسئلو ں کے خلاف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بغیر کسی سیاسی وابستگی کے ادا کریں تاکہ بلوچ عوام کے خلاف ہونے والی کاروائیوں کو روکھا جا سکے۔بی ایس او آزاد کے ترجمان نے بلوچستان بھر میں ہونے والی کامیاب ہڑتال کو لاپتہ بلوچ آزادی پسند سیاسی کارکنوں سے عوامی محبت و قبضہ گیریت سے نفرت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچ عوام کا اپنے لیڈران کی بازیابی کے لئے یکجہتی کا مظاہرہ قومی تحریک کے لئے نیک شگو ن ہے۔8جون کو بی ایس او آزاد کی طرف سے سوشل میڈیا میں لاپتہ سیاسی کارکنان کی عدم بازیابی کے خلاف، اور بلوچ مسئلہ بارے انٹر نیشنل کمیونٹی کو آگاہ کرنے کے لئے آن لائن مہم بھی چلائی گئی

Print Friendly, PDF & Email
Too many requestsBolantimes.com