Wednesday , 13 December 2017
Latest News
بھارت: سربجیت کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں

بھارت: سربجیت کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں

پاکستانی جیل میں زخمی ہونے کے بعد ہسپتال میں ہلاک ہونے والے بھارتی قیدی سربجیت سنگھ کی آخری رسومات ان کے آبائی گاؤں میں ادا کر دی گئیں ہیں۔

ان کی بہن دلبیر کور نے ان کی چتا کو آگ لگائی حالانکہ بھارت میں رسماً خواتین کے بجائے یہ ذمہ داری مرد ادا کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ سربجیت سنگھ پاکستان میں جاسوسی اور بم حملوں کے جرم میں سزایافتہ تھے۔وہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید بائیس سال سے سزائے موت کے منتظر تھے۔جمعہ 26 اپریل کو ان کے دو ساتھی قیدیوں نے ان پر حملہ کیا تھا جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔ ان کے سر، جبڑے، پیٹ سمیت جسم کے کئی حصوں پر زخم آئے تھے۔

بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب لاہور کے جناح ہسپتال کے حکام نے بتایا تھا کہ سربجیت سنگھ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے جمعرات کو سربجیت سنگھ کی موت کی وجہ دل کا دورہ قرار دیا تھا۔

جمعے کو دوپہر سربجیت سنگھ کے گاؤں میں سیاسی رہنماؤں اور ان کی حفاظت پر معمور سکیورٹی افسران کی زبردست بھیڑ تھی جہاں ان کی آخری رسومات ادا کی جارہی ہیں۔

بڑی تعداد میں مقامی لوگ بھی آخری رسومات میں حصہ لینے کے لیے باہر نکلے اور سمشان گھاٹ تک گئے۔

بھارت کی حکمراں جماعت کانگریس پارٹی، اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی اور ریاست میں حکمراں جماعت اکالی دل کے سینیئر رہنما سربجیت کی آخری رسومات کے وقت وہاں موجود تھے۔

شہید کا درجہ

ریاست پنجاب کی حکومت نے سربیجت سنگھ کو شہید کا درجہ دیا ہے اور ان کی لاش کو قومی پر چم میں لپیٹ کر آخری رسومات کے لیے جا یا گيا۔ریاستی حکومت نے سرکاری سطح پر تین روز تک سوگ منانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی اور ریاست کے ڈپٹی وزیر اعلیٰ سکھبیر سنگھ بادل سربجیت کی آخری رسومات میں خاص طور پر شرکت کی۔

ریاست پنجاب کی حکومت نے سربیجت سنگھ کو شہید کا درجہ دیا ہے اور ان کی لاش کو قومی پر چم میں لپیٹ کر آخری رسومات کے لیے جا یا گيا۔

ریاستی حکومت نے سرکاری سطح پر تین روز تک سوگ منانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

حکومت نے ان کی آخری رسومات کے لیے تمام طرح کے سرکاری اعزازات کا اہتمام کیا تھا اور ریاستی پولیس فورس نے انہیں بندوق سے سلامی دی اور مخصوص سرکاری موسیقی بجائی۔

مرکزی حکومت نے سربجیت سنگھ کے اہل خانہ کو پچیس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا لیکن ریاستی حکومت نے انہیں ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

بھارت میں کئی حلقوں نے اس بات پر سوالات اٹھائے ہیں کہ آخر سربجیت کیا تھے کہ ان کے لیے سرکاری اعزاز کا اہتمام کیا گيا اور حکومت نے ان کی آخری رسومات ایسے ادا کیں جیسے ملک کے کسی بڑے ہیرو کے کیے جاتے ہیں۔

بعض حلقوں کے مطابق حکومت کی ان تمام کارروائیوں سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ سربیجت سنگھ ضرور حکومت کی کوئی نہ کوئي ذمہ داری نبھا رہے تھے ورنہ ابھی جنوری میں جب ایک اور بھارتی قیدی چمیل سنگھ کی لاش پاکستان سے بھارت لائی گئی تھی تو حکومت نے ان کے لیے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔

بی بی سی اردو

Print Friendly, PDF & Email
Too many requestsBolantimes.com