Wednesday , 13 December 2017
Latest News
بلوچ عسکریت پسند پاکستان کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتے، برطانوی جریدہ

بلوچ عسکریت پسند پاکستان کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتے، برطانوی جریدہ

لند ن(آن لائن)برطانوی جریدہ ’’اکنامسٹ‘‘ اپنی تازہ اشاعت میں لکھا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے لئے دہشت گردوں کی طرف سے کوئی ہنی مون نہیں۔ بلوچستان کا واقعہ نواز شریف کے لیئے سنگین یاد دہانی ہے، فوجی بغاوت کے ہاتھوں زخم کھائے نواز شریف فوج سے خارجہ اور سلامتی پالیسی واپس لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں،عسکریت پسند پاکستان کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتے وہ کہتے ہیں کہ ملک کی اشرافیہ ان کے کاپر اور گیس کے ذخائر پر قابض ہے، بلوچستان تنازع کی بڑی وجہ اسٹیبلشمنٹ ہے وہ لشکر جھنگوی اور دیگر علیحدگی پسندوں کی طرف سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں،لوگوں کو نامعلوم جیلوں میں غائب کردیا جاتا ہے سڑکوں پر گولیوں سے چھلنی لاشیں ملتی ہیں۔جریدہ لکھتا ہے کہ نواز شریف اپنے پہلے ہفتے میں ملک کی بد حال معیشت کو بہتر کرنے لیے شاید ایک امید کا سانس لیا ہو کہ وہ اپنی توجہ اس کی بہتری میں لگائیں گے لیکن دہشت گرد اور عسکریت کے کچھ اور ہی نظریات تھے،15جون کو فرقہ وارانہ قتل اورکوئٹہ میں علیحدگی پسند باغیوں کے خوفناک حملے میں26افراد کی جان چلی گئی۔دہشت گردی ملک بھر میں پھیلی ہوئی ایک لعنت ہے۔ اس واقعے کے تین دن بعد خیبر پختون خواہ میں جنازے پر حملے میں35افراد جاں بحق ہوگئے تاہم کوئٹہواقعہ نواز شریف کے لئے سنگین یاد دہانی ہے۔ معدنی دولت اور دو علیحدگی پسند تنازعات میں گھرا مصائب زدہ صوبہ ہے۔القاعدہ کی اتحادی لشکر جھنگوی نے خوشی سے کوئٹہ کے قتل عام کی ذمہ داری قبول کی۔جاں بحق ہونے والوں میں طالبات تھیں ،ان کی نعشیں اس حد تک سوختہ ہو چکی تھیں کہ ان کے خاندانوں نے ممکن ہے اپنے پیاروں کی اصل باقیات حاصل نہ کی ہوں۔ عموماً بس ہزارہ کمیونٹی کی طالبات کو لے کر جاتی تھی لیکن کچھ دن پہلے بس نے اپنا راستہ تبدیل کیا اور اس کے مسافروں میں ملے جلے فرقوں کے لوگ تھے۔ یہ عسکریت پسندوں کا غلط ہدف تھا۔اس سے کم مہلک لیکن پاکستانیوں کے لئے چونکا دینے والا واقعہ اسی روز صبح زیارت میں قائداعظم کی ریزیڈنسی پر بلوچستان لیبریشن آرمی کی طرف سے حملہ تھا۔ کوئٹہ سے دو گھنٹے کی مسافت پر یہ لکڑیوں سے بنی عمارت کا ممکن ہے چند پاکستانیوں نے دورہ کیا ہو لیکن سو روپے کے کرنسی نوٹ پر اس عمارت سے پاکستان واقف ہیں۔ عسکریت پسند پاکستان کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتے وہ کہتے ہیں کہ ملک کی اشرافیہ ان کے کاپر اور گیس کے ذخائر پر قابض ہے۔بہت سے پاکستانی خیال کرتے ہیں کہ بلوچستان تنازع کی بڑی وجہ اسٹیبلشمنٹ ہے وہ لشکر جھنگوی اور دیگر علیحدگی پسندوں کی طرف سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔علیحدگی پسند صوبے میں جاری عسکریت پسندی کے خلاف مہم پر سیخ پا ہیں۔ لوگوں کو نامعلوم جیلوں میں غائب کردیا جاتا ہے سڑکوں پر گولیوں سے چھلنی لاشیں ملتی ہیں۔حالیہ واقعے میں قومی اسمبلی میں کافی بحث ہوئی اور وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ملٹری سے بھرے شہر میں کیسے خود کش دھماکے بار بار ہوتے ہیں۔نواز شریف نے قوم پرست رہنما عبدالمالک بلوچ کو وزیر اعلیٰ تعینات کرکے یہ امید باندھی تھی کہ اس امن قائم کرنے میں مدد ملے گی،کوئٹہ حملے سے ایک روز قبل عبد المالک نے لاپتہ افراد کے احتجاج سے وعدہ کیا کہ2006میں اکبر بگٹی کے قتل کی وہ ایک آزاد کمیشن کے ذریعے تحقیق کرائیں گے۔یہ ابھی واضح نہیں کہ وزیر اعلیٰ عسکریت پسندوں پر کتنا اثر رکھتے ہیں۔2008میں اس وقت کی حکومت نے بلوچ قوم پرستوں کے قومی دھارے میں لانے کا وعدہ کیا اس سے امن کی امید پیدا ہوئی۔1999میں فوجی بغاوت کے ہاتھوں زخم کھائے نواز شریف فوج سے خارجہ اور سلامتی پالیسی واپس لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا اپنا وزیر خارجہ اور وزیر دفاع ہو، لیکن ملکی اسٹیبلشمنٹ ابھی بھی طاقتور ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
Too many requestsBolantimes.com