Wednesday , 13 December 2017
Latest News
ایڈی والچ نے رالف پیٹر سے بلوچ تحریق کے بارے یہ انٹر ویو کیا ۔رالف پیٹر ریٹائرڈامریکی کر نل ہیں

ایڈی والچ نے رالف پیٹر سے بلوچ تحریق کے بارے یہ انٹر ویو کیا ۔رالف پیٹر ریٹائرڈامریکی کر نل ہیں

انٹر ویو : ایڈی والچ
تر جمہ : حا نی بلوچ

ایڈی والچ نے رالف پیٹر سے بلوچ تحریق کے بارے یہ انٹر ویو کیا ۔رالف پیٹر ریٹائرڈامریکی کر نل ہیں ۔انہوں نے ایک مضمون ’’بلڈ بار ڈرز‘‘لکھا اور مڈل ایست کا نیا نقشہ پیش کیا جس میں بلو چستان کو آزادملک دکھایا گیا۔یہ مضمون نواب محمد اکبر خان بگٹی کی شہادت سے تقریباًچار ماہ قبل امر یکن فوجی میگزین میں چھپا ۔کا مران خان نے پہلی بار نواب بگٹی کے شہادت کے دن جیوٹی وی پراس مضمون اور نقشہ کے بارے پرو گرام کیا۔ایڈی والچ امریکہ اور ایشیا پیسیفک کے فارن کا رسپانڈنٹ ہیں۔اس کے علاوہ بطور نان ریزیڈنٹ فیلو ،پیسیفک فورم (سی ایس آئی ایس )سے بھی منسلک ہیں،یہ انٹرویو حانی بلوچ نے ترجمہ کرکے ہمیں ارسال کیا ہے ہم ان کے شکریے کیساتھ اسے شائع کر رہے ہیں لیکن بہت ہی اچھا ہوتا اگر اس انٹرویو کی اصل لنک بھی ہمی فراہم کیا جاتاتاکہ قارئین کو اصل ٹیکسٹ کے مطالعے کا شرف حاصل ہوجاتا۔دارہ سنگر)

پانچ گوا ہوں میں سے جنہوں نے فروری 2012 ء میں امریکی کانگریس میں بلو چستان پر سماعت میں ثبوت پیش کیئے ،رالف پیٹر سب سے زیادہ متنا زع تھے۔ا ن لوگوں نے اسکی مذمت کی جو امریکہ کی پا کستان کے ساتھ سا جیداری کی حمایت کر تے ہیں ۔لیکن ان لو گوں نے اسکی تعریف کی جو آزاد بلو چستان کی حمایت کرتے ہیں۔
بلوچ ڈا ئسپورا (Diaspora)کے رد عمل پر مبنی حما یت کی بنا کو ئی یہ امید لگا ئے کہ انکا ’’ہیرو‘‘ بلو چستان کی آزادی کے لیئے اپنی حما یت جا ری رکھیں گے ،لیکن ایسا با لکل نہیں ہے۔
’’جبکہ پیٹر تمام بلو چوں کی آزادی اور انکے انسانی حقوق کی گرم جو شی سے حمایت پر قا ئم ہے۔ ‘‘لیکن وہ بر جستہ یہ بھی تسلیم کر تا ہے کہ وہ شا ید ایران اور پا کستان سے جلد اپنی آزادی حا صل نہ کر سکیں۔اور اسکے خیال میں بلوچ خود کسی حدتک اسکے ذمہ دار ہیں۔
پیٹر کے مطا مق’’ بلوچ آپس کے جھگڑوں پر لازمی قا بو پا ئیں جو انکے مقصد کو سخت نقصان دے رہے ہیں،لا زمی ہے وہ بلوچ قوم پرستوں کے ہا تھوں انسا نی حقوق کی خلاف ورزیوں پر قا بو پا ئیں،اور مغرب سے اپنی تعلقات کے سیا سی حکمت عملی (diplomatic engagement) کوپختہ کریں‘‘۔پیٹر پہلے کی طرح پر امید ہیں کہ بلوچ اپنی تمام زمین یا اسکے ایک حصے کو آنے والے وقت ضرور آزاد کرا لیں گے۔یہ یا تو بلو چوں کی ایک مسلسل سیاسی حکمت (Sustained Diplomacy.)سے ممکن ہوگا یا افغا نستان ،ایران اور پاکستان کے ریاستوں کی ناکامی یا ٹوٹنے سے ان پر تھونپا جا ئیگا۔
دونوں میں سے کسی بھی صورت پیٹر بلو چوں کو خبردارکرتا ہے کہ اگر وہ مو ثر حکمرانی کی خوا ہش رکھتے ہیں تو انہیں اپنے مختلف گرپوں کو مزید متحد کر نا ہوگا۔اگر وہ متحد ہو نے میں کا میاب نہ ہو ئے انکی آزادی صرف ٹکرا ؤ کا ایک اور دور جنم دے گی۔جسکی مغربی پا لیسی ساز حمایت نہیں کریں گے۔
عوامی برادر کشی(Public Fratricide)
پیٹر کے مطا بق بلوچ تحریق آزادی کا ایک سب سے زیادہ تشویشناک پہلو شدید مشکلات پیدا کر نے والی اندرونی جنگ ہے۔حقیقت میں وہ اسطرح کی نوک جھونک جو ایک دوسرے کو نیچا دکھا نے کے لیئے جاری ہیں کی پر زور مذمت کر تے ہیں۔اور یہاں تک کہتے ہیں:
ٍ ’’ یہ جلد ہی خود اپنے سب سے بڑے دشمن ثا بت ہونگے‘‘۔
انکے خیال میں ایک بلوچ یہ نہیں سمجھ سکتا کہ ان کے ذا تی اختلا فات مجمو عی طور تحریک کے لیے کتنے نقصان دہ ہیں۔’’کچھ بلوچ یہ سمجھنے میں نا کام رہے کہ آزادی لینے کی خا طر انکی وا حد امید یہ ہے کہ وہ اپنی انا اور غرور کو ایک طرف رکھ کر متحد ہو کرکام کریں ۔یہ ایک نا پسندیدہ حقیقت ہے (this is the cold hard fact)بلو چوں کا پہلے قتل عام ہوا اور انکے اچھے لو گوں کو مار دیا گیا۔پا کستان مسلسل انکے اختلا فات سے فا ئدہ اٹھا تا رہے گا۔جب تک کہ وہ اسکا ادراک کریں‘‘۔
جب تک بلوچ اپنے ’’بے حیثیت اختلافات‘‘جیسے ای میل میں ایک دوسرے پر وحشیانہ تنقید ،میں مصروف رہیں گے، پیٹر کے خیال میں انکے لیئے مغرب سے وسیع تر حمایت حا صل کر نا مشکل ہوگا۔پیٹر خبردار کر تے ہیں کہ انکی اس قسم کی اندرونی لڑا ئی سے آخر کار انکے مضبو ط حما یتی اپنی حمایت ملتوی کر سکتے ہیں۔
اس لیئے وہ مشورہ دیتے ہیں کہ بلوچ لیڈر شپ اور سر گرم کار کن مثال قا ئم کریں اور عوامی سطح کی نوخ جھونک بند کریں ۔’’بلوچ لیڈر شپ کو چا ہئے کہ وہ آپس میں اور دوسروں پر شدید ذاتی تنقیدبند کریں فو جی لحاظ سے ہم کہتے ہیں وہ اتنا بڑا حملہ نہ کریں کہ ایک چھپا تیر انداز سب کو دلدل میں ڈبو دے۔لیکن وہاں کچھ افراد ہیں جو تقسیم کاری اور لو گوں پر حملوں میں ملو ث ہیں۔وہ اس خیال کے حا می ہیں کہ اگر آپ مجھ سے سو فیصد متفق نہیں تو آپ میرے دشمن ہیں۔یہ انکے مقصد کو نقصان پہنچا تا ہے۔
جب تک یہ لیڈرز اور پر جوش کارکن ’’ مجمو عی تحریق(Big Picture )کی مدد ‘‘ نہیں کریں گے اس وقت تک پیٹر کو امید نہیں کہ بلوچ قوم مجمو عی طور اکھٹے کام کرنے کے قا بل ہو گی اور اپنے شدید اختلا فات کوایک طرف رکھ کر متحد ہو گی۔پیٹرتحریک کی حمایت کر تا ہے لیکن یہ بات اسے تکلیف دیتی ہے۔پیٹر کہتا ہے ’’ کیا میں یقین کروں کہ اس وقت انہیں آزادی حا صل کر نے کا اچھا مو قع ہے ۔میرے خیال میں نہیں۔لیکن اگر وہ صرف ملکر کام کرنا شروع کریں تومستقبل میں امکا نات کا فی بڑھ جا ئیں گے۔لیکن یہ افسوس ناک ہے کہ یہ لیڈرز متحد نہیں ہو تے۔‘‘
پیٹر کو بلو چوں کے اس رجحان پر بھی پریشا نی ہے ،کہ انکے مطا بق انکے اندرو نی اختلافات پا کستا نی فوج اور سیکیو رٹی ایجنسیوں کی خفیہ کا روا ئیوں کا نتیجہ ہیں’’پیٹر کے مطابق یہ علاقہ مجمو عی طور پر سا زشی نظریوں پر یقین رکھتا ہے۔لیکن میں اب اس پر یقین رکھتا ہوں کہ اگر نا اہلی ثابت ہو تو آپ کبھی سا زشوں پر یقین نہیں کریں گے۔شا ید یہاں چیزیں ملی ہو ئی ہیں ۔پا کستا نی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کا شا ید بلو چستان میں اشتعال دلا نے والا کردار ہو با لکل اسی طرح جیسے وہ افغا نستان میں کر رہے ہیں۔فوج اور ایجنسیاں پرا نے اصول ’’تقسیم کرو اور فتح کرو‘‘پر زندہ ہیں اور اس میں وہ مہا رت رکھتے ہیں۔لیکن سب سے بڑا مسئلہ بلوچ کا اپنا انا ہے۔یہ وہ مسئلہ ہے جسے حل کر نا ہے۔‘‘
ظلم کا شکارمجرم نہیں(Victoms Are Not Perpetrators)
پیٹر کا کہنا ہے کہ’’ بلوچ اپنے گھرکو انسا نی حقوق کی خلاف ورزیوں سے پاک کریں۔کیونکہ بلوچ انتہا پسند انکے مقصد کے لیئے شدید خطرہ ہیں ۔میں بلوچ انتہا پسندوں سے بہت فکر مند ہوں۔ڈاکٹرز اور استا دوں کو مار نا کسی صورت جا ئز ثا بت نہیں کیا جا سکتا۔انتقام کے لیئے شاید یہ اچھا لگتا ہولیکن اس طرح وا شنگٹن میںآپ اپنے دوستوں کے دل نہیں جیت سکتے۔ان گروہوں کو مارنا اپنے تحریک کو نقصان پہنچا نے کے مترا دف ہے۔‘‘
پیٹر کے مطا بق ایسے انتہا پسند زیا دہ نہیں لیکن بلوچ لیڈر شپ اس قابل نہیں کہ ان تمام گرپوں پر قا بو پا ئے جو بلوچ نیشنلزم کے چھتری تلے کام کر رہے ہیں ۔یہ عملی میدان میں شورش(Insugency)کو نقصان پہنچانے والے بڑے مسا ئل میں سے ایک ہے۔’’بلو چوں کو شاطرا نہ انداز (Baloch need tacticle pupose)میں کام کر نا چا ہیے۔آپ پنجا بی ٹیچر کو صرف اس لیئے نہیں مار سکتے کہ آپ نہیں چاہتے کہ وہ آپ کے سکول میں پڑھا ہے، آپ انکو ما ریں جو ظلم اور جبر کر رہے ہیں اور پاکستا نی ایجنٹ ہیں‘‘۔
جب ان سے پو چھا گیا کیا آپ کے خیال میں بلوچ لیڈر شپ ان گرپوں کو آسا نی سے لگام دیگی۔پیٹر کا جواب تھاوہ یقین سے نہیں کہہ سکتے ۔لیکن اسکا خیال تھا انکے لیئے کو ئی دوسرا را ستہ نہیں اگر انہوں نے ان پرقا بو نہیں پا یا پھر وہ بہت غیر یقینی مستقبل کی جا نب رواں ہیں ۔یہ بھی ممکن ہے وہ دوسرے تا مل ٹا ئیگر بنیں ۔مو جو دہ حا لت میں کچھ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ ابھی تک بلو چوں نے یہ بھی فیصلہ نہیں کیاکہ ایک حکومت کیسے کام کرے گی۔لڑ نے کے علاوہ انہیں چا ہیے وہ زیادہ جدید سسٹمز (Sophisticated Systems )پر کام کریں۔جیسے آئین ،حکو متی ڈھانچہ اور پریس ریلیشنز ۔جب تک یہ کام نہیں ہو تے یہ کہنا مشکل ہے وہ کس راستے پر جا ئیں گے۔
لیڈر شپ کا فقدان(Leadership Deficit)
یہ بتا تے ہو ئے کہ ’’بلوچ بہت نا تجربہ کار ہیں‘‘پیٹر اپنی تجا ویز کی لسٹ دیتے ہو ئے پر امید ہیں، وہ دلیل دیتے ہیں اگر انہیں امریکہ اور دوسرے نیٹو ممبرز کی حمایت حا صل کر نے کی کو ئی امید ہے تو انہیں اپنے مسئلے کو سیاسی حکمت عملی (Diplomatic Engagement)کے ذریعے انکے سا منے بھر پور انداز میں پیش کر نا چا ہیے۔
پیٹر کہتا ہے اسکی ابتداسیا سی لیول پر ہو نا چا ہیے ۔بلو چوں کو لا زمی مختلف وا بستگان (Stakeholders)اور اثر رسوخ رکھنے والوں کی متعلقہ اہمیت (Relative Importance)کو سمجھنا چا ہیے جو مغرب میں انکی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔بلوچ یہ نہیں دیکھتے کہ میرے جیسے لوگ اہم لوگ نہیں ہیں۔اہم روہرا باچراور دوسرے کانگریسی ممبر ہیں۔بلوچ اتنے غیر تجر بہ کار ہیں کہ ان با توں کو نہیں سمجھتے ۔
پیٹر سمجھتے ہیں ایسی مو شگا فیاں کنڈی میں رہنے والے ایک عام بلوچ کی پہنچ سے با ہر ہیں۔انکا خیال ہے لیڈر شپ ان پر بہتر قابو پا سکتا ہے۔بد قسمتی سے وہ یہ ہو تے ہوئے نہیں دیکھ رہا۔وہ اسے بلوچ لیڈر شپ کی اہلیت کے بڑے مسئلے کا ایک حصہ سمجھتا ہے۔’’بلو چوں کو لیڈر شپ چا ہیے ۔یہ امریکہ کا کام نہیں کہ انکے لیڈرز کا انتخاب کرے ۔
احمد چلابی اور حا مد کرزئی کا حال دیکھیں۔بلو چوں کو یہ کام خود کرنا چا ہیئے وہ ایسے لیڈرز کو پرو موٹ کریں جن پرہم بھرو سہ کر سکیں۔
پیٹر کو یقین ہے اگر بلوچ کی زیا دہ موثرلیڈر شپ ہو تی توبلوچ ڈا ئسپورا (Diaspora)اتنی بھو لی بھا لی (Naive)بھی نہیں کہ آدھا درجن کا نگرس ممبر ز کی حمایت کا فی سمجھتے ۔
کا نگریشنل سماعت سے بلوچ بہت زیادہ تو قعات رکھے ہو ئے ہیں۔تکا لیف برداشت کر نے کی بناپر بلو چوں کو یقین ہے ایسی چیزجیسی آزادی آسا نی سے نہیں ملتی ۔سما عت ایک تا ریخی وا قع ہے اس نے بلو چوں کے مقصد(Cause )کو ریکارڈ پر لا یا لیکن بلو چوں کا خیال ہے یہ بال کو پہلے سے زیادہ تیزی سے لڑھکائے گا۔وہ بالکل یہ نہیں سمجھ سکتے کہ ابھی تک سینکڑوں کانگرس ممبرز یہ تک نہیں جانتے کہ نقشے پر بلو چستان کہاں ہے۔انکی آزادی کو سال نہیں بلکہ دھا ئیاں درکار ہیں۔
پیٹر کا یہ خیال ہے بلوچ بہتر ہے سمجھ لیں کہ عا لمی برادری انکے مقصد کی کیا مدد کر سکتی ہے۔اس وقت بلوچ اپنی سیاسی حکمت عملی سے جو چا ہتے ہیں اور جو کچھ شاید انہیں مل پا ئے اس میں وہ بڑا فرق دیکھ رہے ہیں۔’’دیکھیں امریکی فوج آزادی کے لیئے بلو چستان میں دا خل نہیں ہو گی ۔اور ما ضی قریب میں آپ ظا ہراً امریکہ کو ہتھیار سپلا ئی کر تے نہیں دیکھیں گے چا ہے ہم پاکستان سے جتنے بھی بیزار ہیں۔انہیں خود آزادی کی جنگ جیتنی ہو گی۔انہیں چا ہیئے اسکا خا کہ تیار کریں (They need to figure out how?)
آخر میں پیٹر کہتا ہے بلوچ لیڈر شپ کو چا ہیئے کہ بلوچ متحرک کار کنوں (Baloch Activists)کی بہترتعلیم و تر بیت میڈیا کے ڈیکورم (On Media Decorum)پر کریں۔اگر وہ اس میں ناکام ہوئے تو انہیں خوف ہے کہ وہ ایسے بیدا ری پیدا کر نے میں نا کام ہو نگے جو مغربی حکومتوں کوبلو چوں کے حق میں اقدامات کرنے پر را ضی کر سکے۔سما عت میں انہوں نے انکو ایک پلیٹ فام دیا جنہیں اپنے فا ئدے اور نقصان کا علم نہ تھا اور دوسروں پر تنقید کرتے ہیں۔انہیں چا ہیئے وہ سمجھیں کہ مغربی پر یس کیسے کام کر تی ہے۔ان کے لیئے بہتر ہے وہ خود نمایا ہوں نہ کہ دوسروں پر تنقید کریں ۔انکا مو قف بالکل صحیح ہو لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کیسے بین الاقوامی میڈیا اور حکومتیں کام کر تی ہیں۔ان کے اعمال انکے مقصد کے لئے تباہ کن ہیں۔
بلوچ آزادی کے لیئے سب سے زیادہ آواز بلند کر نے والے امریکنوں میں سے ایک پیٹر کو امید ہے کہ بلوچ لیڈر شپ ان نقات کو بغیر کسی بد گمانی کے نیک مشورہ کے طور لیں گے۔’’اس تنقید کا مقصد مدد کرنا ہے دل آزاری نہیں۔‘

Print Friendly, PDF & Email
Too many requestsBolantimes.com