Friday , 19 January 2018
Latest News
اللہ نذر بلوچ کی اہلیہ سمیت زیر حراست بلوچ خواتین کی رہائی

اللہ نذر بلوچ کی اہلیہ سمیت زیر حراست بلوچ خواتین کی رہائی

 بی بی سی اردو:   پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکام نے عسکریت پسند کمانڈر ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی اہلیہ سمیت زیرِ حراست چار خواتین اور بچوں کو رہا کر دیا ہے۔

ان خواتین کی رہائی کا اعلان صوبائی وزیرِ داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کیا۔

ان میں فضیلہ بلوچ اور ان کی بیٹی کے علاوہ گوریلا کمانڈر اسلم بلوچ کی بہن اور دیگر رشتہ دار خواتین شامل ہیں۔

ان بلوچ خواتین کی گرفتاری کے بارے میں متضاد موقف سامنے آئے تھے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق میر سرفراز بگٹی نے جمعے کی شام وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ چار خواتین اور تین بچوں کو 30 اکتوبر کو افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن سے گرفتار کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان خواتین میں ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ ، اسلم بلوچ کی بہن اور کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ کے ڈپٹی کمانڈر دلیپ کی اہلیہ شامل تھیں۔

میر سرفراز بگٹی کے مطابق یہ خواتین افغانستان جانے کے لیے غیر قانونی طور پر سرحد کو پار کرنا چاہتی تھیں جہاں ان کے بقول ڈاکٹر اللہ نذر اور دیگر عسکریت پسند موجود ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا ان خواتین سے تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ وہ افغانستان سے کالعدم تنظیموں کے لیے پیسوں کی ترسیل میں بھی ملوث رہی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ کالعدم تنظیموں کے لیے پیسوں کی ترسیل میں ملوث ہونے اور سرحد کو غیر قانونی طور پر پار کرنے کی کوشش کے باوجود سکیورٹی فورسز نے ان خواتین کو باعزت طریقے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے حوالے کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Govt. of Baluchistan
Image caption وزیر اعلیٰ نے بلوچی رسم و رواج کے مطابق خواتین کو چادر پہنا کر روانہ کیا

میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنی خواتین اور بچوں کی عزت کرتے ہیں۔’ اس موقع پر انھوں نے بعض تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے بلوچی رسم و رواج کے مطابق خواتین کو چادر پہنا کر روانہ کیا۔

انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر اللہ نذر کی بیوی کو ان کے بھائی کے حوالے کر دیا گیا اور وہ انھیں لے کر کراچی روانہ ہو گئے۔

سرفراز بگٹی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان خواتین کی گرفتاری سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی میں افغانستان کی سرزمین کو استعمال کیا جا رہا ہے۔’

دوسری جانب قوم پرست جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ فضیلہ، ان کی بیٹی پوپل جان سمیت تین دیگر خواتین اور چھ بچوں کو 30 اکتوبر کو کوئٹہ سے اٹھایاگیا تھا۔

بی این ایم کے چیئرمین خلیل بلوچ نے چمن سے ان خواتین کی گرفتاری کے کے بارے میں سرکاری موقف کو رد کرتے ہوئے اسے سرکاری پروپیگنڈہ قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ ان خواتین کو چمن یا افغانستان جاتے ہوئے نہیں بلکہ کوئٹہ میں سریاب روڑ سے اسلم بلوچ کی ہمشیرہ کے گھر سے اٹھایاگیا تھا۔

خلیل بلوچ نے کہا کہ ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ ایک فوجی آپریشن میں زخمی ہوئی تھیں جس کے بعد ان کی کمر کا آپریشن ہوا جو ناکام رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ علاج کی غرض سے کوئٹہ میں موجود تھیں۔

Print Friendly, PDF & Email
Too many requestsBolantimes.com